Daily Taqat
../../Images/NewsImages/2017119135555528.jpg

امیتابھ بچّن اور منموہن دیسائی کے متعلق دلچسپ باتیں

ممبئی:بالی وڈ کے معروف فلم ہدایت کار منموہن دیسائی جب اداکار امیتابھ بچن کے پاس فلم ’امر اکبر انتھونی‘ کی تجویز لے کر گئے تھے تو امیتابھ نے ان سے کہا: ’تم پاگل ہو گئے ہو؟‘ ’ونس اپان اے ٹائم ان انڈیا۔۔ اے سنچری آف انڈین سنیما‘ نامی کتاب کے اجرا کے موقع پر امیتابھ بچّن نے اپنے اور منموہن دیسائی کے متعلق اس طرح کی کچھ دلچسپ باتیں بتائیں۔ امیتابھ بچّن نے بتایا: ’جب منموہن دیسائی میرے پاس آئے اور بولے کہ میں ’امر اکبر انتھونی‘ بنانا چاہتا ہوں تو میں نے ان سے پوچھا جس زمانے میں ’چھوٹی بہو‘، ’بڑی بہن‘ جیسی فلمیں بن رہی ہیں آپ یہ لے آئے۔ ایسی فلمیں کون دیکھے گا؟‘ امیتابھ نے مزید کہا کہ ’اس فلم کا پہلا سین شوٹ ہو رہا تھا جس میں تین بھائی ایک ساتھ ایک خاتون کو خون دے رہے تھے۔ یہ دیکھ کر میں نے کہا کہ میڈیکل کی تاریخ میں یہ تو ابھی تک نہیں ہوا ہوگا، تو مجھے منموہن نے گالی دی اور کہا تم دیکھنا۔‘ امیتابھ بتاتے ہیں کہ فلم کی ریلیز کے بعد جب وہ سین لوگوں نے دیکھا تو خوب تالیاں بجيں اور ’یہ ثابت ہوا کہ فلموں سے متعلق میری معلومات اتنی اچھی نہیں ہیں۔‘ اس موقع پر امیتابھ نے فلموں میں اپنے سفر کے متعلق بعض ایسے پہلوؤں کو اجاگر کیا جن کے متعلق بہت کم لوگوں کو پہلے معلوم تھا۔ امیتابھ نے فلم انڈسٹری میں آنے والی تبدیلی کے بارے میں کہا: ’تکنیکی تبدیلیاں بہت آئی ہیں۔ اب فلم ریل ہوتی ہی نہیں ہے، سب کچھ ڈیجیٹل ہے تو ہم اسے فلم انڈسٹری کیوں کہیں؟ جس طرح سے فلمیں بنتی ہیں اس میں کافی تبدیلیاں آچکی ہیں۔ برسوں پہلے، فلم کی ریل بہت مہنگی ہوتی تھی، ہم اسے ضائع نہیں کر سکتے تھے، اس لیے کہیں نہ کہیں یہ دباؤ ہوتا تھا کہ آپ ایک ہی ٹیک میں شاٹ مکمل کریں نہیں تو آگے شاید آپ کو کام نہ ملے یا آپ فلم سے ہی نکال دیے جائیں۔‘ امیتابھ نے مزید کہا کہ ’جب میں ہدایت کار رشی كیش مکھرجی کو یہ کہتا تھا کہ مجھے ایک اور ٹیک لینا ہے تو وہ پوچھتے تھے، اس کا پیسہ آپ دوگے؟‘ انھوں نے بتایا کہ انھیں ہر عشرے میں فلم انڈسٹری میں کچھ مختلف دیکھنے کو ملا ہے اور ہر ایک چیز کا دوسرے سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ انھوں نے کہا: ’ہر عشرے میں نئی موسیقی، نئے فنکار، نئے فلم ساز اور فلم ڈائریکٹر دیکھنے کو ملے۔ مجھے یاد ہے پچاس کے عشرے کی فلم دیکھنے کا کچھ الگ ہی مزہ تھا۔ اس وقت ایک دو ہی ایئر كنڈيشن سنیما گھر تھے اور وہ بھی ایک عجیب بات تھی۔‘ حال ہی میں فلم ’پنک‘ میں نظر آنے والے امیتابھ بچن نے خواتین کے ساتھ جنسی زیادتیوں کے مسئلے پر بھی بات چيت کی۔ انھوں نے ایسے تمام واقعات کی مذمت کی اور کہا کہ بھارتی معاشرے کو بدلنے میں ابھی بہت وقت ہے۔ انہوں نے فلم 'پنک' کے اس يادگار ڈائیلاگ کو دہرایا: ’نو مطلب نو۔‘ انھوں نے کہا: ’عورت جب نہ کہتی ہے تو آپ کو رکنا ہوگا، چاہے وہ آپ کی دوست ہو یا بیوی۔ مجھے فخر ہے کہ میں نے ’پنک‘ جیسی فلم میں کام کیا۔‘

../../Images/NewsImages/2017119134924200.jpg

حکومت فلم بنانے والوں کو سرمایہ فراہم کرے گی: مریم اورنگزیب

کراچی:وزیرِاعظم نواز شریف کی جانب سے فلموں کے لیے قائم کی گئی کمیٹی کی سربراہ مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت فلم بنانے والوں کو سرمایہ کی فراہمی، قومی ایوارڈز کے دوبارہ اجرا اور فنکاروں کی خصوصی کانفرنس جیسے اقدامات کرکے پاکستان کی فلم اور سینما کی صنعت کو مستحکم کرنا چاہتی ہے تاکہ دنیا بھر میں پاکستان کا اچھا اور مثبت تاثر قائم کرنے میں مدد مل سکے۔ وزیرِمملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب نے بی بی سی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان کی فلمی صنعت کو عروج پر دیکھنا چاہتی ہے اور وزیرِاعظم کی جانب سے اس کے لیے خصوصی کمیٹی کا قیام اسی جانب ایک اہم قدم ہے۔ انھوں وضاحت کی کہ یہ کمیٹی صرف انڈین فلموں کی پاکستان میں نمائش تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ یہ ایک جامع اور مربوط لائحہ عمل تیار کرنے کی جانب پیش رفت ہے۔ مریم اورنگزیب نے بتایا کہ حکومت اس سلسلے میں تین اہم ترین اقدام کررہی ہے جن میں پاکستان کے نیشنل فلم ایوارڈز کا اجرا جیسے پہلے نیفڈیک کے ذریعے ہوتا تھا مگر اس کا نام نیشنل ایوارڈز ہوگا۔ دوسرا مارچ میں فنکاروں کی قومی کانفرنس منعقد کی جائے گی جس میں فلمی صنعت سے وابستہ تمام افراد شریک ہوں گے اور تیسرا حکومت کی جانب سے فلم بنانے والوں کو بینکوں کی جانب سے سرمائے کی فراہمی میں مدد فراہم کرنا شامل ہے۔ ان کے مطابق اس سلسلے میں دنیا بھر میں کئی ماڈلز ہیں اور حکومت اس پر سنجیدگی سے کام کررہی ہے۔ یادرہے کہ پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف نے پیر کو ایک کمیٹی بنانے کا اعلان کیا تھا جس میں وزیرِ مملکت کے ساتھ ان کے معاون عرفان صدیقی، مرکزی فلم سینسر بورڈ کے چیئرمین مبشر حسن اور سیکریٹری تجارت شامل تھے۔ اس کمیٹی کے بارے میں تاثر یہ تھا کہ یہ پاکستان میں انڈین فلموں کی نمائش میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کے سلسلے میں اپنی تجاویز دے گی۔ مریم اورنگزیب نے کہا کہ یہ بات تسلیم کرنا ہوگی کہ 1965 کے بعد سے سینما کہ صنعت زبوں حالی کا شکار رہی اور 2007 میں جب انڈین فلموں پر سے پابندی ہٹی کو اس وقت ملک میں سینما نہ ہونے کے برابر رہ گئے تھے اور مقامی سطح پر فلمیں بالکل نہیں بن رہی تھیں۔ انھوں نے تسلیم کیا کہ جب ستمبر کے آخر میں انڈین فلموں پر دوبارہ پابندی عائد کی گئی تو سینما بینوں کی تعداد میں 70 فیصد تک کمی واقع ہوئی جس سے ملک میں موجود 40 فیصد سینما سکرینز بند کرنی پڑٰیں، 73 زیرِ تکمیل پاکستانی فلمیں رک گئیں اور 1700 افراد کو بےروزگار ہونا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کے سینما کو مقامی طور پر 200 فلمیں سالانہ چاہییں اور تب تک ہمیں بیرونی مواد پر ہی انحصار کرنا ہوگا۔‘ انھوں نے واضع کیا کہ حکومت بیرونی مواد صرف بالی وُڈ تک ہی محدود نہیں رکھنا چاہتی بلکہ ترکی اور ایرانی فلموں کی پاکستانی سینما گھروں میں نمائش کے لیے بھی کوشش کررہے ہیں۔ مریم اورنگزیب نے تسلیم کیا کہ ملک بھر میں پائریسی کے ذریعے بھارتی فلمیں پھیلی ہوئی ہیں اور موجودہ ڈیجیٹل دور میں پابندی لگانا ویسے بھی ممکن نہیں ہے اس لیے بہتر ہے کہ سینما میں قانونی طریقے سے سینسر کرکے فلمیں دکھائی جائیں۔ بھارتی فلموں کی پاکستان میں درآمد کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ سال حکومت نے درآمدی پالیسی ازسرنو ترتیب دی ہے اور این او سی کے معاملے پر سپریم کورٹ کا حکم موجود ہے کہ درآمدی پالیسی سے باہر جو بھی اشیا ہیں ان کے لیے این او سی صرف وفاقی حکومت ہی جاری کرے گی تو اس طرح اس میں کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ البتہ این او سی جاری کرنے کا معاملہ بھی ضروری ہے کیونکہ اکثر حساس معاملات ہوتے ہیں مگر اس ضمن میں ایک مربوط پالیسی بنائی جارہی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ انہوں نے فلم ایگزیبیٹرز کے ساتھ بدھ کو ملاقات کرکے اس سلسلے میں ان کا مؤقف جانا ہے اور جمعرات کو وہ سینیما مالکان اور ڈسٹری بیوٹرز سے بھی ملاقات کررہے ہیں جب کہ اگلے مرحلے میں وہ اداکاروں، ہدایتکاروں اور پروڈیوسرز کے ساتھ بھی ملاقات کریں گے تاکہ ہر ایک کا مؤقف اور رائے سامنےحتمی ہو تو پھر فیصلہ کیا جائے۔

ای پیپر






سوشل میڈیا



فونٹ ڈاون لوڈ

















نیوز لیٹر


سبسکرائب




کھیل